15 جنوری 2014 - 20:30
شام میں 20 لاکھ شہری متاثر

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شام ميں جاري بحران اور دہشتگردي کي وجہ سے اب تک بيس لاکھ سے زيادہ شامي شہري متاثر ہوئے ہيں۔

ابنا: يورپي کميشن اور اقوام متحدہ نے خبردار کيا ہے کہ شامي پناہگزينوں کا بحران ايک انساني اور سياسي الميے ميں تبديل ہوسکتا ہے اور اس بحران پر اسي صورت ميں قابو پايا جاسکتا ہے جب پناہگزينوں کو يورپ ميں بھي پنا دي جائے۔ يورپي ممالک نہ صرف يہ کہ شامي پناہگزينوں کو قبول کرنے کے لئے تيار نہيں بلکہ شام ميں دہشتگردي کے شعلوں کو مسلسل ہوا دے رہے ہيں۔ بيلجيئم کے وزير خارجہ نے کہا ہےکہ شام کي جنگ ميں شرکت کے لئے جانے والے ان کے ملک کے شہريوں ميں سے بيس اس جنگ ميں مارے جاچکے ہيں۔ انہوں نے بتايا کہ شام ميں مختلف دہشتگردوں کے ساتھ لڑنے والے دوسو بيلجين شہريوں کي شناخت کي جاچکي ہے۔ فرانس کے صدر فرانسوا اولانڈ نے بھي اپنے ملک کے سات سو شہريوں کي دہشتگردوں کي صفوں ميں موجودگي کا اعتراف کيا ہے۔ سعودي عرب سميت متعدد عرب ملکوں کے سيکڑوں دہشتگردوں کي شام ميں موجودگي کے بارے ميں خبريں تواتر کے ساتھ موصول ہوتي رہتي ہيں۔ بيروني حمايت يافتہ دہشتگردي کے نتيجے ميں لاکھوں شامي شہري اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہيں۔ آج شامي پناہگزينوں کا معاملہ ايک اور علاقائي بحران ميں تبديل ہوگيا ہے۔

.......

/169